ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ضمنی چناؤ کے جیت کے بعد کانگریس نئی منصوبہ بندیوں میں مصروف، وزارت کی مخلوعہ نشستوں اور نئے کے پی سی سی صدر کے تقرر کی تیاریاں 

ضمنی چناؤ کے جیت کے بعد کانگریس نئی منصوبہ بندیوں میں مصروف، وزارت کی مخلوعہ نشستوں اور نئے کے پی سی سی صدر کے تقرر کی تیاریاں 

Sat, 15 Apr 2017 02:19:01    S.O. News Service

بنگلورو:14/اپریل(ایس او نیوز)ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے بعد سب کی توجہ اب ریاستی کابینہ کی دو مخلوعہ نشستوں کو پر کرنے کی طرف مرکوز ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس قیادت بہت جلد یہ بھی فیصلہ لینے والی ہے کہ کے پی سی سی صدارت پر موجود ہ صدر ڈاکٹر جی پرمیشور کو برقرار رکھا جائے یا پھر کسی ایسے لیڈر کو ریاست میں پارٹی کی ذمہ داری سونپی جائے جو 2018کے اسمبلی انتخابات میں کھل کر پارٹی کی قیادت کرسکے۔ گنڈل پیٹ اور ننجنگڈھ اسمبلی حلقوں میں جیت درج کرنا وزیراعلیٰ سدرامیا اور کانگریس پارٹی کیلئے وقار کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ ان انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ سدرامیا اور کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور کے حوصلے کافی بلند ہیں، اسی سلسلے میں کل یہ دونوں صدر کانگریس سونیاگاندھی سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان نے شرط رکھی تھی کہ دونوں حلقوں کے ضمنی چناؤمیں اگر سدرامیا کامیابی حاصل کرلیں تو اعلیٰ کمان کی طرف سے ان کی پوزیشن کواور مستحکم کرتے ہوئے فیصلہ لینے میں انہیں آزادی دی جائے گی۔اس جیت کے ساتھ ہی سدرامیا اپنی وزارت کی دو مخلوعہ نشستوں کو پر کرنے کے ساتھ کے پی سی سی کی از سر نو تشکیل اور ڈاکٹر پرمیشور کی جگہ کسی فعال کانگریس لیڈر کو یہ ذمہ داری سونپنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر پرمیشور کی جگہ وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار کو کے پی سی سی صدارت سونپنے پر اعلیٰ کمان نے رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن لنگایت فرقہ کے ایک اور لیڈر سابق وزیر ایس آر پاٹل بھی کے پی سی سی صدارت کے اہم دعویداروں میں سے ایک ہیں۔ کابینہ کی مخلوعہ نشستوں کو پر کرنے کیلئے لنگا یت طبقے کے ایک لیڈر اور پسماندہ طبقات سے وابستہ کسی رکن اسمبلی کو نمائندگی دئے جانے کا امکان ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا جو لنگایت فرقہ کے سب سے طاقتور رہنما مانے جاتے ہیں، گنڈل پیٹ اور ننجنگڈھ اسمبلی انتخابات کے مرحلے میں وہ اپنے لنگایت طبقے کو متاثر کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، اسی لئے کانگریس کی یہ کوشش ہے کہ لنگایت فرقہ سے ہی وابستہ کسی مضبوط لیڈر کو کے پی سی سی صدارت دے کر اس طبقے کو اپنی جانب متوجہ کرے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے جہاں یہ ثابت کردیا ہے کہ ڈی کے شیوکمار نہ صرف وکلیگا بلکہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات میں بھی ایک مضبوط لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں تو ان کا نام بھی کے پی سی سی صدارت کیلئے کافی سنجیدگی سے غور کیا جارہاہے۔ حال ہی میں انہوں نے وکلیگا فرقہ کے ایک کنونشن میں اپنے فرقہ میں اتحاد پر زور دیتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ 1999کے انتخابی نتائج کو اس بار بھی دہرایا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ ان کا فرقہ ان کا بھرپو ساتھ دے اور کانگریس اعلیٰ کمان ان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرے۔ وکلیگا فرقہ سے ہی وابستہ وائٹ کالر سیاست دان ایس ایم کرشنانے حال ہی میں کانگریس کو خیر باد کہہ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی، لیکن انہی کے علاقہ میں آنے والے گنڈل پیٹ اور ننجنگڈھ اسمبلی انتخابات میں جس طرح وکلیگا فرقہ نے کھل کر کانگریس کا ساتھ دیا ہے، اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوچکی ہے کہ وکلیگا فرقہ پر اب ایس ایم کرشنا کی گرفت نہ ہونے کے برابر ہے۔


Share: